وزیر خارجہ پاکستان کی مکہ معاہدے پر 7 نکاتی وضاحت
اسحاق ڈار نے مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق سات اہم نکات بیان کیے، اس کے دفاعی اور علاقائی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
اہم نکات
AIپاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنی ملک کی جانب سے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے سات نکات پر مشتمل وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان کئی برسوں پر محیط مشاورت اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔
ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بتایا کہ یہ معاہدہ خطے کی کسی بھی ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے تیار ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ کسی بھی موجودہ دو طرفہ یا کثیر فریقی معاہدے کی جگہ نہیں لے گا، چاہے وہ ان ممالک کے درمیان ہوں یا دیگر ممالک و تنظیموں کے ساتھ۔
دفاعی نوعیت اور علاقائی شمولیت
ڈار نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں، اس کا واحد مقصد خطے میں امن کی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ مل کر پائیدار امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
