سعودی عرب اور امریکہ میں تاریخی جوہری معاہدہ
سعودی عرب اور امریکہ نے سول جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے تاریخی معاہدہ کر لیا۔
اہم نکات
AIسعودی عرب اور امریکہ نے سول جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون کے لیے معاہدہ کیا ہے، جس کے ساتھ جوہری تحفظات سے متعلق دو طرفہ معاہدہ بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان شہری جوہری تعاون کے لیے قانونی اور اسٹریٹجک فریم ورک قائم ہوگا اور توانائی و جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
یہ معاہدہ شہزادہ محمد بن سلمان، ولی عہد و وزیراعظم سعودی عرب کی گزشتہ نومبر میں امریکہ آمد کے دوران سول جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مذاکرات کی تکمیل کے اعلان کے بعد طے پایا۔
معاہدے پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے۔ امریکہ میں اس معاہدے کو 'معاہدہ 123' کہا جاتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان شہری جوہری تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں فریقوں نے جوہری تحفظات سے متعلق دو طرفہ معاہدہ بھی کیا ہے، جس کا مقصد جوہری سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے معیارات کو مضبوط بنانا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون کو فروغ دینا، مہارت، علم اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا ہے، تاکہ جوہری سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ دونوں ممالک کی مشترکہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ توانائی اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں تعاون کو وسعت دی جائے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جائے۔
امریکی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے شہری جوہری پروگرام میں اہم کردار ملے گا، جس سے امریکی برآمدات کو تقویت اور معاشی و صنعتی مواقع پیدا ہوں گے، ساتھ ہی سعودی عرب کی توانائی ضروریات پوری ہوں گی اور طویل مدتی توانائی تحفظ کو فروغ ملے گا۔
وزارت نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ اور جوہری تحفظات سے متعلق معاہدہ، جوہری سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو مضبوط بناتا ہے اور سعودی جوہری پروگرام کی ترقی میں امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت پر انحصار کرتا ہے، جس سے ریاض اور واشنگٹن کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کے تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے سعودی اور امریکی عوام کو طویل مدتی معاشی فوائد حاصل ہوں گے، جبکہ جوہری سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ معیارات پر بھی عمل کیا جائے گا۔
امریکی وزارت توانائی نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدہ امریکی جوہری ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافے اور امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا، ساتھ ہی توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ معاہدہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں جاری تعاون کا تسلسل ہے اور توانائی کے ذرائع میں تنوع، جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی اور مشترکہ مفادات کے لیے سرمایہ کاری و تعاون کے مواقع کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
معاہدے کو امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں اس کا جائزہ لے کر امریکی قانون کے مطابق باضابطہ کارروائی مکمل کی جائے گی، جس کے بعد ہی یہ نافذ العمل ہوگا۔
