مواد پر جائیں
اتوار، 9 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
سعودی عرب

سعودی عرب کے دفاع میں خلیجی و عرب ممالک کا اظہار یکجہتی

حوثی حملوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ خلیجی اور عرب ممالک نے بھرپور یکجہتی اور مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 2 منٹ مطالعہ
سعودی عرب کے دفاع میں عرب ممالک کا اظہار یکجہتی

اہم نکات

AI

حوثی ملیشیا کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ خلیجی اور عرب ممالک کی یکجہتی کی مہم شروع ہو گئی ہے۔

کویت کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے میزائل حملوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کی سلامتی کونسل کی جانب سے مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔

کویت نے ایک بار پھر سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ساتھ ہی یمن کی قانونی حکومت اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کی جانب سے یمن میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کی بھی حمایت کی ہے۔

بحرین نے بھی سعودی عرب پر حوثی دہشت گرد حملوں اور سمندری نقل و حمل کو درپیش خطرات کی سلامتی کونسل کی مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔ بحرین نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا امن بحرین کے امن کا لازمی حصہ ہے۔

رابطہ عالم اسلامی نے بھی سلامتی کونسل کے بیان کا خیرمقدم کیا۔ رابطہ کے سیکریٹری جنرل اور علماء کونسل کے سربراہ محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں خصوصاً قرارداد 2216، اور یمن کی خودمختاری، وحدت، آزادی اور سالمیت کا احترام ضروری ہے، اور ایسے اقدامات کو مسترد کیا جو علاقائی سلامتی اور سمندری نقل و حمل کو خطرے میں ڈالیں۔

العیسیٰ نے رابطہ کے اداروں اور اس کے تحت آنے والی تمام اسلامی اقوام کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی سلامتی و خودمختاری کے دفاع کے لیے کیے گئے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ اسی طرح یمن کی قانونی حکومت اور یمن و اس کے عوام کے لیے بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کی گئی۔

مصر نے بھی سعودی عرب کی سلامتی کو نشانہ بنانے والی دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے جس سے خطے کا امن و استحکام اور سمندری نقل و حمل، بین الاقوامی تجارت اور اہم آبی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ مصر نے کہا کہ یہ دھمکیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے قانون برائے سمندر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

تبصرے (0)