سعودی عرب کی حوثی حملوں کی شدید مذمت
سعودی وزارت خارجہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی ملیشیا کے شہری و معاشی اہداف پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
اہم نکات
AIسعودی وزارت خارجہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی ملیشیا کے شہری اور معاشی اہداف پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت اور سخت احتجاج کیا ہے، جن کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ حوثی ملیشیا بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور بین الاقوامی سمندری نقل و حمل کی آزادی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر اس ملیشیا کے معاندانہ رویے اور مجرمانہ اقدامات کو مسترد کیا ہے، جو یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایوں کے امن و استحکام کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے اور ہر قسم کی امن کوششوں کو رد کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے اپنی خودمختاری کے دفاع اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق برقرار رکھنے کا اعادہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا، اور یہ سب کچھ بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا جائے گا۔
سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے معصوم شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ مملکت نے فوری طور پر تمام تر کشیدگی اور سمندری سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خصوصاً قرارداد 2216 (2015) اور 2722 (2024) پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
