ہلال کی شاندار خریداری، النصر شدید مالی بحران کا شکار
سعودی پرو لیگ میں ہلال نے ریکارڈ سودے کیے ہیں جبکہ النصر مالی مشکلات کے باعث نئی خریداری سے محروم ہے، footiledefrance.fr کے مطابق۔
اہم نکات
AIسعودی پرو لیگ میں موسم گرما کی منتقلی کے آغاز کے ساتھ ہی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جہاں ہلال نے اپنی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے سودے کیے ہیں، جبکہ النصر شدید مالی بحران کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ یہ بات فرانسیسی ویب سائٹ footiledefrance.fr نے رپورٹ کی ہے۔
اسی ذرائع کے مطابق، منتقلی کی کھڑکی 22 جولائی 2026 کو کھلی اور 6 ستمبر تک جاری رہے گی۔ ہلال نے پانچ نئے کھلاڑیوں کے معاہدے کیے ہیں، جن میں محمد العويس اور نواف الحبشی شامل ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق، ہلال ہالینڈ کے ونگر کریسینسیو سامرفیل (ویسٹ ہیم) کے ساتھ معاہدے کے قریب ہے، جس کی مالیت 80 ملین یورو (تقریباً 327 ملین سعودی ریال) ہے۔ یہ معاہدہ سامرفیل کو نيمار کے بعد سعودی لیگ کا دوسرا مہنگا ترین کھلاڑی بنا دے گا۔
النصر کو مالی بحران اور سودوں کی معطلی کا سامنا
دوسری جانب، footiledefrance.fr کی رپورٹ کے مطابق النصر نے تاحال کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا اور اسے شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔ کھلاڑی مارسيلو بروزوویچ معاہدہ ختم ہونے کے بعد ٹیم سے رخصت ہو گئے ہیں اور ان کا متبادل بھی نہیں لیا گیا۔ جبکہ سامو کوسٹا (ریال مایورکا) کے ساتھ مذاکرات بجٹ کی کمی کے باعث روک دیے گئے ہیں۔
دونوں کلبوں میں فرق کی وجوہات
رپورٹ کے مطابق، اس فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہزادہ ولید بن طلال نے اپریل میں ہلال کے 70٪ حصص خرید لیے تھے، جس سے کلب کو سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی مالی پابندیوں سے آزاد ہو کر زیادہ آزادی مل گئی۔ اس کے برعکس، النصر اب بھی اسی فنڈ کی سخت نگرانی میں ہے، جس کے باعث اس کی نئی خریداریوں کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔
