سعود الصرامی: بدر الرزیزاء کے ساتھ ٹیم آگے نہیں بڑھے گی، مسئلہ کھلاڑیوں کا معیار ہے
سعود الصرامی نے کہا ہے کہ سعودی فٹبال ٹیم کی اصل مشکل کھلاڑیوں کے معیار میں ہے، نہ کہ انتظامیہ میں، اور بدر الرزیزاء کے ساتھ بھی بہتری ممکن نہیں۔
اہم نکات
AIمعروف اسپورٹس ناقد سعود الصرامی نے کہا ہے کہ سعودی فٹبال ٹیم کی اصل مشکل سعودی فٹبال فیڈریشن کی انتظامیہ نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے معیار اور کارکردگی میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدر الرزیزاء ایک بہترین منتظم ہیں، تاہم ان کی موجودگی میں بھی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کی توقع نہیں۔
العربیہ ایف ایم سے گفتگو میں سعود الصرامی نے کہا کہ وہ یاسر المسحل کے دور صدارت میں کیے گئے کام سے مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں، لیکن کھلاڑی میدان میں مطلوبہ کارکردگی پیش نہیں کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا: "میری اصل شکایت کھلاڑیوں سے ہے، انتظامیہ سے نہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو کیمپ، سہولیات اور انعامات سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے، لیکن آخر میں گول کرنا اور نتائج دینا کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہے۔
سعود الصرامی نے کیپ وردے کے خلاف میچ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے صرف ایک گول درکار تھا، جو وہ نہ کر سکے۔ انہوں نے سوال کیا: "کیا آپ چاہتے ہیں کہ مسحل خود گول کرے؟"
انہوں نے کہا کہ فٹبال میں کھلاڑیوں کا معیار سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے القادسیہ کلب کی مثال دی، جو چند برسوں میں پہلی ڈویژن سے لیگ ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہو گیا، کیونکہ اس کے کھلاڑیوں کا معیار بہتر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ارجنٹائن کی ٹیم نے لیونل میسی جیسے غیر معمولی کھلاڑیوں کی بدولت ورلڈ کپ فائنل تک رسائی اور کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ کھلاڑیوں کے معیار میں کمی براہ راست ٹیم کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔
بدر الرزیزاء کے حوالے سے سعود الصرامی نے کہا کہ ان کے ساتھ سعودی ٹیم ایشین کپ یا خلیجی کپ میں آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ انتظامی صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں ہے۔
ایکس پر مکمل ٹویٹ دیکھیں
سعود الصرامی نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ اگر سعودی ٹیم جدہ میں خلیجی کپ یا سعودی عرب میں ہونے والے ایشین کپ میں ناکام رہی تو وہ فٹبال فیڈریشن کی برطرفی کا مطالبہ کریں گے، اگرچہ ان کے نزدیک اصل مسئلہ کھلاڑیوں کے معیار میں ہے۔
