رونالڈو پر معمولی جرمانہ، پرتگال میں بحث چھڑ گئی
پرتگالی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے کرسٹیانو رونالڈو پر 255 یورو جرمانہ اور 30 دن کی پابندی نے ملک میں کھیلوں کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اہم نکات
AIپرتگالی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے النصر سعودی کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو کو 30 دن کے لیے معطل کرنے اور 255 یورو (تقریباً 77 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے نے پرتگال کے کھیلوں کے حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ سزا رونالڈو کے حالیہ بین الاقوامی وقفے کے دوران قومی ٹیم کا کیمپ چھوڑنے پر دی گئی ہے۔
پرتگالی اخبار 'ابولا' نے اس مالی جرمانے کی رقم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سزا رونالڈو کی سالانہ آمدنی کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے، جو تقریباً 250 ملین یورو ہے۔
اخبار کے مطابق، رونالڈو کو اس جرمانے کی رقم کمانے میں صرف 38.6 سیکنڈ لگتے ہیں۔ اس سے یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا موجودہ تادیبی سزائیں کھلاڑیوں کی خلاف ورزیوں کے لحاظ سے مناسب ہیں اور فٹبال قوانین پر کس طرح عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
جیسوس کی اختیارات زیر بحث
اسی تناظر میں 'ابولا' نے یہ بھی بتایا کہ پرتگالی ٹیم کے کوچ جورجی جیسوس کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ آئندہ کیمپ میں رونالڈو کو ٹیم میں شامل کریں یا نہ کریں، یا پھر انہیں بینچ پر بٹھا دیں۔
توقع ہے کہ النصر کے کپتان پر عائد اس سزا اور اس پر ان کے ردعمل کو آئندہ دنوں میں بھرپور توجہ ملے گی، خاص طور پر جب اگلے بین الاقوامی وقفے کے لیے پرتگالی ٹیم کا اعلان قریب ہے۔
کاروالیو کا واقعہ پھر موضوع بحث
اخبار نے پرتگالی مدافع ریکارڈو کاروالیو کے 2011 کے واقعے کا بھی ذکر کیا، جب انہوں نے یورو 2012 کوالیفائر میں قبرص کے خلاف میچ میں نہ کھیلنے پر ٹیم کا کیمپ چھوڑ دیا تھا۔
اس وقت فیڈریشن نے کاروالیو پر ایک سال کی ابتدائی پابندی عائد کی تھی، جسے بعد میں نرم کر دیا گیا اور کوئی مالی جرمانہ نہیں لگایا گیا۔ کاروالیو 2014 میں ٹیم میں واپس آئے اور 2016 میں یورو کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ بنے۔
ان دونوں واقعات کے موازنے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ تادیبی سزائیں کتنی متناسب اور یکساں ہیں، جبکہ سب کی نظریں اب جیسوس کے آئندہ فیصلے اور اس بحران کے رونالڈو اور ٹیم کے تعلقات پر ممکنہ اثرات پر مرکوز ہیں۔
