سعودی عرب میں ڈیجیٹل معیشت 522 ارب ریال تک پہنچ گئی
وزیر مواصلات عبداللہ السوحہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی ڈیجیٹل معیشت 75 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 522 ارب ریال تک پہنچ گئی ہے۔
اہم نکات
AIوزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبداللہ السوحہ نے اعلان کیا ہے کہ مملکت میں ڈیجیٹل معیشت نمایاں طور پر بڑھی ہے، جو 300 ارب ریال سے کم سے بڑھ کر 522 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی ہے، یعنی اس میں 75 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات وزارت اطلاعات کی جانب سے منعقدہ سرکاری پریس کانفرنس میں کہی۔
عبداللہ السوحہ نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل شعبے میں ملازمتوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 10 ہزار ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سعودی عرب صرف ٹیکنالوجی درآمد کرنے والا نہیں بلکہ برآمد کرنے والا ملک بھی بن چکا ہے۔
ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری
وزیر مواصلات نے بتایا کہ ملک میں 80 سے زائد ٹیکنیکل اسکولز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ڈیٹا سینٹرز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور فائبر آپٹک کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے، جس کی شرح اب 32 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے، جس سے سعودی عرب عالمی سطح پر ڈیجیٹل تیاری میں سرفہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔
خدمات میں بہتری اور ڈیجیٹل فرق میں کمی
اسی حوالے سے السوحہ نے بتایا کہ شکایات کی تعداد 15 فیصد تک کم ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ دس برسوں میں خدمات میں فرق بھی گھٹ کر 5 فیصد رہ گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تیز رفتار ترقی کے باعث اب سعودی عرب مرکزی مارکیٹ میں ایک ارب صارفین کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
