امریکا، ایران معاہدے پر شکوک کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تیل کی قیمتوں میں بدھ کو اضافہ ہوا، جب کہ ماہرین نے امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات
AIتیل کی قیمتوں میں آج بدھ کے روز اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ جلد طے پانے کا امکان کم ہے جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہو سکے، اگرچہ حکام کی جانب سے پیش رفت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے 72 سینٹ یا 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 89.63 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 71 سینٹ یا 0.85 فیصد بڑھ کر 83.91 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، دونوں اہم تیل برانڈز کے سودے منگل کو ایک ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئے، جو 31 جولائی کے بعد سب سے زیادہ اختتامی سطح ہے۔ یہ اضافہ پیر کو تقریباً 5 فیصد کی تیزی کے بعد بھی برقرار رہا، جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔
شپنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف 6 بحری جہاز گزرے، جب کہ گزشتہ 10 دنوں کا اوسط 11 جہاز تھا۔ جنگ سے قبل یہ تعداد روزانہ 125 سے 140 جہازوں کے درمیان ہوا کرتی تھی۔
امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 9.1 ملین بیرل اضافہ ہوا، جبکہ پٹرول کے ذخائر میں 1.5 ملین بیرل اور ڈیزل کے ذخائر میں 596 ہزار بیرل کی کمی ہوئی، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں ہے۔
