عراق کے وزیرِ تیل: ہرمز بحران سے خام تیل کی برآمد متاثر ہوئی
عراقی وزیر تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ہرمز بحران نے خام تیل کی برآمدات پر منفی اثر ڈالا ہے اور اس کے تکرار سے بچنے کے لیے حل تلاش کرنا ہوں گے۔
اہم نکات
AIعراقی وزیر تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ہرمز بحران نے خام تیل کی برآمدات کو متاثر کیا ہے اور ہمیں اس کے دوبارہ پیش آنے سے بچنے کے لیے حل تلاش کرنے ہوں گے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ جنگ سے قبل عراق روزانہ تقریباً 34 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمد کرتا تھا، تاہم جنگ کے بعد اس راستے سے برآمدات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے مستقبل میں برآمدی راستوں میں تنوع لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت تیل کی صنعت کو ترقی دینے، پیداوار اور برآمدات بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سرمایہ کاری میں اضافہ اور عالمی کمپنیوں کو تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے کوشاں ہے۔
عراقی وزیر تیل نے مزید کہا کہ ہمارا ملک پچاس برس کی جنگوں اور دہشت گردی کے بعد جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا متقاضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت اپنے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور عراق کو قائدانہ مقام دلانے کے لیے پُرعزم ہے، جس کے مثبت اثرات معیشت اور عوامی زندگی پر مرتب ہوں گے۔
