مواد پر جائیں
منگل، 25 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
کاروبار

امریکا کی ایران پر معاشی دباؤ اور پابندیاں مزید سخت

امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھاتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دیں، جس کا مقصد ایرانی مالیاتی ذرائع کو محدود اور خطے میں حملے روکنا ہے۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 6 منٹ مطالعہ
امریکا ایران معاشی پابندیاں اعلامیہ

اہم نکات

AI

امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مالیاتی ذرائع کو محدود کرنے اور خطے میں جہاز رانی پر حملے رکوانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ اس تنازع کے اثرات عالمی توانائی اور تجارت کی منڈیوں پر بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیزنٹ نے پیر کے روز ایران پر عائد ثانوی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا اعلان کیا، جسے انہوں نے "یوم النصر اقتصادی" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ان مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہا ہے جو تہران کو پابندیوں سے بچنے اور آمدنی کے ذرائع برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

بیزنٹ نے کہا کہ امریکا "ایران کے عالمی مالیاتی روابط پر معاشی حملہ کر رہا ہے"، اور اس کا مقصد ایرانی حکومت کو سہارا دینے والے ہر معاشی شریان کو کاٹ کر تہران کو مکمل طور پر معاشی طور پر الگ تھلگ کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے ان ممالک یا تاریخ کا ذکر نہیں کیا جن پر نئی پابندیاں لاگو ہوں گی، تاہم انہوں نے واضح پیغام دیا کہ جو ممالک یا کمپنیاں ایران سے کاروبار جاری رکھیں گی، وہ ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم ہو سکتی ہیں۔

واشنگٹن کی نظریں ایرانی معیشت کی شہ رگ پر

یہ اقدامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو خلیج اور بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ یہ حملے فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئے تھے۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ سخت پابندیاں تہران پر دباؤ ڈالنے کا مؤثر ذریعہ ہیں تاکہ وہ جہاز رانی پر حملے بند کرے، جبکہ ایران خبردار کر چکا ہے کہ پابندیوں اور معاشی دباؤ کی پالیسی الٹا اثر بھی ڈال سکتی ہے۔

ایران کئی دہائیوں سے امریکی اور عالمی پابندیوں کے زیر اثر ہے جس سے اس کی معیشت کمزور ہوئی، تاہم اب تک اس کے حکومتی رویے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے تقریباً چھ ماہ بعد اس تنازع کے اثرات جہاز رانی اور توانائی کی منڈیوں تک پھیل چکے ہیں، جس سے خطے میں شپنگ متاثر اور تیل کی ترسیل محدود ہوئی ہے، اور اس کا اثر امریکی و عالمی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔

تیل کی منڈیوں میں پیر کو دو ہفتے کی مسلسل بڑھوتری کے بعد قیمتوں میں کمی آئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکی پابندیوں کے اعلان سے قبل منافع سمیٹنے لگے۔

کوئی بھی پابندیوں سے محفوظ نہیں

واشنگٹن خاص طور پر ان نیٹ ورکس کو ہدف بنا رہا ہے جو ایران کو تیل کی اسمگلنگ اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ بیزنٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ نے ان نیٹ ورکس، بروکرز اور مالیاتی چینلز کی نشاندہی کر لی ہے جن پر تہران اپنی آمدنی کے لیے انحصار کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان ذرائع آمدن کو نشانہ بنائے گا جنہیں انہوں نے ایران کے لیے "غیر قانونی" قرار دیا۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ایرانی حکومت اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پانچ اہم شعبوں پر انحصار کرتی ہے: ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوابازی اور شپنگ۔ یہ تمام شعبے اب پابندیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔

وزارت نے پہلے ہی تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں تاکہ ایرانی مالیاتی ذرائع کو مزید محدود کیا جا سکے۔

ایران سے تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے بیزنٹ نے، چینی بینکوں کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ "کوئی بھی امریکی پابندیوں سے محفوظ نہیں"۔

چین امریکی حسابات کے مرکز میں

چین واشنگٹن کی نئی حکمت عملی میں سب سے حساس نکتہ ہے، کیونکہ وہ کئی سالوں سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔

بیزنٹ نے اس سے قبل چین سے امریکا کے ساتھ تعاون کی اپیل کی تھی، جبکہ جولائی کے وسط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے چین کو ایرانی تیل کی ترسیل میں کمی آئی ہے۔

تاہم چینی بینکوں پر مزید پابندیاں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نیا معاشی محاذ کھول سکتی ہیں، خاص طور پر جب اگلے ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر چین کے بینکوں کو نشانہ بنایا گیا تو بیجنگ جوابی اقدامات کر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکا کی جانب سے اس کی اہم معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیاں چین کے لیے حساس معاملہ ہیں۔

چینی وزارت خارجہ نے پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقے مسائل کے حل میں مددگار نہیں، اور بیجنگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

ٹرمپ کی تجارتی محصولات کی دھمکی

امریکی دباؤ صرف مالی پابندیوں تک محدود نہیں، صدر ٹرمپ نے ایران سے کاروبار کرنے والے ممالک، جن میں ترکی، عراق اور بھارت شامل ہیں، پر تجارتی محصولات عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے ان محصولات کے قانونی جواز کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں جہاز رانی سے متعلق اپنے انتباہات میں اضافہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی جہاز اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے نہ گزرے۔

ایران نے 45 جہازوں کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے جن پر اس کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے، اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی منتقلی پر ردعمل دیا جائے گا۔

یہ اقدامات خطے کے اہم ترین توانائی اور شپنگ روٹس کو مزید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں، جبکہ تنازع کے باعث تیل اور شپنگ کی نقل و حرکت پر دباؤ برقرار ہے۔

پاکستان کا مذاکراتی راستہ کھولنے کی کوشش

معاشی دباؤ میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان نے بھی تہران کی جانب سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر پیر کو ایران پہنچے ہیں جہاں وہ مذاکرات کریں گے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، جبکہ ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق منیر ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی افراد سے بھی ملاقات کریں گے۔

دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے منیر سے ٹیلیفون پر بات کی، جبکہ ایک اور ذریعے کے مطابق ان رابطوں کا بنیادی مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اس رابطے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے براہ راست فضائی حملے نہیں ہوئے، اور دونوں کے درمیان آخری باضابطہ مذاکرات جون میں ہوئے تھے۔

تبصرے (0)