سعودی عرب میں جولائی کے دوران سالانہ افراط زر 1.8 فیصد پر برقرار
سعودی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں سالانہ افراط زر کی شرح 1.8 فیصد رہی، جو مسلسل تیسرے ماہ اسی سطح پر برقرار ہے۔
اہم نکات
AIسعودی عرب کے ادارہ شماریات نے اعلان کیا ہے کہ جولائی میں ملک میں صارف قیمتوں کے اشاریے (افراط زر) میں سالانہ بنیاد پر 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ہے۔ اس طرح افراط زر کی شرح مسلسل تیسرے ماہ اسی سطح پر برقرار رہی۔
ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں افراط زر میں 1.8 فیصد اضافے کی بنیادی وجہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں 4.2 فیصد اضافہ ہے، جبکہ خوراک و مشروبات کی قیمتیں 1.5 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے نرخ 1.4 فیصد بڑھے۔
رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کے شعبے میں 4.2 فیصد اضافے کی وجہ رہائشی کرایوں میں 4.3 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے بعد ذاتی نگہداشت، سماجی تحفظ اور دیگر اشیا و خدمات کے شعبے میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ دیگر ذاتی سامان کی قیمتوں میں 11.1 فیصد اضافہ ہے۔ اس میں زیورات اور گھڑیوں کی قیمتیں 12 فیصد بڑھی ہیں۔ تفریح، کھیل اور ثقافت کے شعبے میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ چھٹیوں کے پیکجز کی قیمتوں میں 3.7 فیصد اضافہ ہے۔
جولائی 2026 میں صارف قیمتوں کے اشاریے میں جون 2026 کے مقابلے میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کے شعبے میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔
