ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کا عسکری استعمال یمن و خطے کے لیے خطرہ ہے: معمر الاریانی
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ ایران کا شہری انفراسٹرکچر کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا یمن، خطے اور عالمی بحری تجارت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اہم نکات
AIیمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا اس کی آپریشنل حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ خطے میں اپنے ایجنٹوں کو منظم اور مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل منظم انداز میں دہرایا جا رہا ہے، چاہے وہ بیروت ایئرپورٹ کا استعمال ہو، شامی بندرگاہوں کا استعمال ہو یا پھر صنعاء ایئرپورٹ اور الحدیدہ کی بندرگاہیں ہوں۔ ان تمام مقامات پر شہری تنصیبات کو ایرانی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور شہریوں و اہم تنصیبات کو براہ راست نشانہ بننے کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ ایران اپنی حوثی ملیشیا کے ذریعے ان ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر شہری تنصیبات کو اسلحہ اسمگل کرنے، ماہرین منتقل کرنے، جدید عسکری ٹیکنالوجی پہنچانے اور ملیشیا کی جنگی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح یہ تنصیبات زندگی اور ترقی کی شریانوں کے بجائے جنگ کے تسلسل اور علاقائی خطرات میں اضافے کا ذریعہ بن رہی ہیں، جس کے براہ راست اثرات یمن کی سلامتی و استحکام، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی سکیورٹی پر پڑتے ہیں۔
الاریانی نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں ریاست کی خودمختار املاک ہیں، جو عوامی وسائل سے تعمیر ہوئی ہیں اور ان کا مقصد شہریوں کی خدمت، سفر، تجارت اور انسانی امداد کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے منصوبوں یا علاقائی تنازعات کو ہوا دینا۔
یمنی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ ان تنصیبات کا غیر قانونی اور غیر شہری مقاصد کے لیے استعمال ریاست کی خودمختاری، عوام کے حقوق اور شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلا مذاق اور بین الاقوامی قوانین و معاہدات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
الاریانی نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانونی حکومت یمنی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو شہری مقاصد کے لیے فعال رکھنے، مسافروں کی آمدورفت، تجارت اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی صورت ان تنصیبات کو اسلحہ اسمگلنگ، ماہرین کی منتقلی یا حوثی ملیشیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی، کیونکہ شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ قومی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اعرض التغريدة على منصة X
