مواد پر جائیں
پیر، 3 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
دنیا

ایران میں مذاکرات اور جنگ پر متضاد بیانیے غالب

ایرانی امور کے ماہر ڈاکٹر نبیل العتوم کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا انحصار مذاکرات کے نتائج پر ہے۔

عاجل اردو45 منٹ پہلے · 1 منٹ مطالعہ
ایرانی مذاکرات اور امریکی پالیسی پر ماہرین کی گفتگو

اہم نکات

AI

ایرانی امور کے ماہر اور پروگرام برائے ایرانی مطالعات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نبیل العتوم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا معیار اس بات پر منحصر ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

العٹوم نے 'العربیہ ایف ایم' سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت تنازع میں دو متضاد بیانیے شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی دو مختلف پیغامات دے رہے ہیں، ایک مذاکرات کے حوالے سے اور دوسرا بار بار طاقت کے استعمال کی دھمکی کی صورت میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی اس دوہری پالیسی کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ واشنگٹن جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ امریکی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ بغیر طویل جنگ کے بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور تمام آپشنز کھلے ہیں۔

العٹوم کے مطابق ایرانی موقف بھی دوغلا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مذاکرات نہیں کرے گی اور آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، ساتھ ہی یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن مکمل جنگ سے خوفزدہ ہے۔ ایران 'قدم بہ قدم' کے اصول پر قائم رہنا چاہتا ہے اور آبنائے ہرمز کو ایک اہم مذاکراتی کارڈ کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

تبصرے (0)