ایران میں مذاکرات اور جنگ پر متضاد بیانیے غالب
ایرانی امور کے ماہر ڈاکٹر نبیل العتوم کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا انحصار مذاکرات کے نتائج پر ہے۔
اہم نکات
AIایرانی امور کے ماہر اور پروگرام برائے ایرانی مطالعات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نبیل العتوم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا معیار اس بات پر منحصر ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
العٹوم نے 'العربیہ ایف ایم' سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت تنازع میں دو متضاد بیانیے شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی دو مختلف پیغامات دے رہے ہیں، ایک مذاکرات کے حوالے سے اور دوسرا بار بار طاقت کے استعمال کی دھمکی کی صورت میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی اس دوہری پالیسی کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ واشنگٹن جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ امریکی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ بغیر طویل جنگ کے بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور تمام آپشنز کھلے ہیں۔
العٹوم کے مطابق ایرانی موقف بھی دوغلا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مذاکرات نہیں کرے گی اور آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، ساتھ ہی یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن مکمل جنگ سے خوفزدہ ہے۔ ایران 'قدم بہ قدم' کے اصول پر قائم رہنا چاہتا ہے اور آبنائے ہرمز کو ایک اہم مذاکراتی کارڈ کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ایکس پر مکمل خبر دیکھیں
