ایران جنگ کے باعث پھنسی بحری جہازوں سے ماحولیاتی تباہی کا خدشہ
ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب پھنسی تجارتی بحری جہازوں سے ماحولیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔
اہم نکات
AIایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کئی ماہ سے پھنسی تجارتی بحری جہازوں کی وجہ سے ممکنہ ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ اور ووڈز ہول انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے اپنی تحقیق میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بحری جہازوں کے ڈھانچوں پر بڑی تعداد میں اجنبی سمندری جاندار، خوردبینی مخلوقات اور کائی جمع ہو رہی ہے، جو یقینی حیاتیاتی آلودگی کا سبب بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے تین سال قبل ان بحری جہازوں کے لیے، جو عموماً 18 سے 30 دن تک رکے رہتے ہیں، فوری اقدامات کی سفارش کی تھی تاکہ حیاتیاتی آلودگی کے خطرات کو کم کیا جا سکے، جیسا کہ 'الشرق' نے رپورٹ کیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ ضوابط ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں بحری جہازوں کے اجتماعی اور غیر متوقع طور پر رکنے کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہونے پر اجنبی سمندری انواع کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کا خدشہ ہے، جس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔
