بچوں میں خسرہ کی سنگینی، والدین کیلئے صحت عامہ کی وارننگ
ہیئت صحت عامہ نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ خسرہ صرف جلدی دانے نہیں بلکہ یہ بچوں کیلئے سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
اہم نکات
AIہیئت صحت عامہ نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تمام لازمی ویکسینیشن مکمل کروائیں اور خسرہ سے بچاؤ کیلئے اضافی حفاظتی خوراک جلد از جلد دلائیں، تاکہ بیماری اور اس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے ساتھ معاشرے کی حفاظت میں بھی کردار ادا کیا جا سکے۔
ہیئت نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں واضح کیا کہ خسرہ ایک نہایت متعدی وائرل بیماری ہے، جس کی علامات صرف جلد پر دانوں تک محدود نہیں۔ یہ بیماری ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے، خاص طور پر جب متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے۔
ایکس پر مکمل پوسٹ دیکھیں
ہیئت نے خبردار کیا کہ خسرہ کی وجہ سے بچوں کو سنگین طبی پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں، جن میں کان کا انفیکشن، اسہال سے پیدا ہونے والی جسمانی کمزوری، نمونیا اور دماغ کی سوزش شامل ہیں۔
ہیئت صحت عامہ نے اس بات پر زور دیا کہ خسرہ سے بچاؤ کی سب سے مؤثر تدبیر ویکسینیشن ہے، اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو بروقت اضافی حفاظتی خوراک دلائیں، تاکہ نہ صرف ان کی حفاظت ہو بلکہ بیماری کے پھیلاؤ اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی تحفظ مل سکے۔
