عالمی ادارہ صحت: کانگو میں ایبولا بے قابو، پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ تاحال بے قابو ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک تک منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اہم نکات
AI
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اب بھی قابو سے باہر ہے، اور وبا مسلسل پھیل رہی ہے جبکہ ہمسایہ ممالک تک اس کے منتقل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، حالانکہ قابو پانے کی کوششیں کئی ہفتوں سے جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیرانتظام اس ادارے نے کہا ہے کہ موجودہ وبا کانگو کی تاریخ کی سب سے بڑی ہے، اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صحت عامہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے، جیسا کہ جرمن خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق وبا کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، صرف گزشتہ ہفتے میں 567 نئے کیسز اور 296 اموات ریکارڈ کی گئیں، جو بیماری کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ ہفتہ وار شرح ہے۔
یوں لیبارٹری میں تصدیق شدہ کل متاثرین کی تعداد 3605 ہو گئی ہے، جن میں 1587 اموات شامل ہیں، جبکہ 651 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ادارے نے واضح کیا کہ موجودہ وبا نے 2018 سے 2020 کے درمیان آنے والی سب سے بڑی لہر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3317 تھی۔
اگرچہ مریضوں کی نشاندہی اور لیبارٹری ٹیسٹنگ میں بہتری آئی ہے، تاہم ادارے نے کہا کہ کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ وائرس کا وسیع پیمانے پر پھیلنا ہے، نہ کہ صرف بہتر تشخیص۔
ادارے کے مطابق متاثرہ افراد کے قریبی افراد کی نگرانی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ صرف 80 فیصد افراد کی تین ہفتے تک نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس پر مؤثر کنٹرول کے لیے یہ شرح کم از کم 95 فیصد ہونی چاہیے۔
