لبنان کے صدر: ریاست کے سوا کسی ہتھیار کو قانونی حیثیت نہیں
صدر لبنان جوزف عون نے کہا ہے کہ ریاست کے دائرے سے باہر کسی بھی ہتھیار کو قانونی حیثیت حاصل نہیں اور ملک کا تحفظ صرف قومی فوج ہی کر سکتی ہے۔
اہم نکات
AIلبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر کسی بھی ہتھیار کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں اور لبنان کے تحفظ کی ضمانت صرف اس کی قومی فوج ہی دے سکتی ہے۔
یہ بات انہوں نے یکم اگست کو یومِ فوج کے موقع پر لبنانی فوج کو مبارکباد دیتے ہوئے کہی۔ لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، صدر عون نے فوج کو لبنان کی وحدت، خودمختاری اور آزادی کا واحد ضامن قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا: ریاست کے دائرے سے باہر کسی بھی ہتھیار کو قانونی حیثیت حاصل نہیں، اور اس وطن کا تحفظ صرف اس کی جامع قومی فوج کے ہاتھ میں ہے جو تمام لبنانیوں کی نمائندگی کرتی ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی علاقے، فرقے یا پس منظر سے ہو۔ فوج ہی واحد ادارہ ہے جس کے پاس فیصلہ سازی، طاقت اور قانونی حیثیت ہے کہ وہ ریاست کی واحد عسکری قوت ہو، اور ہم اسی مقصد کے لیے پختہ عزم کے ساتھ مرحلہ وار کام کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ بقائے باہمی اور ملک کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
صدر عون نے مزید کہا کہ ہماری فوج نے جنوبی لبنان میں قربانی اور استقامت کی بے مثال داستانیں رقم کی ہیں، اور اسرائیلی افواج کے ہر انخلا کے ساتھ فوج کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ آئندہ مرحلے میں فوجی یونٹس کی مکمل تعیناتی اور جنوبی سرحدوں پر ریاستی اختیار کا مکمل نفاذ ضروری ہے، تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ لبنان اپنی فوج کے ذریعے اپنی خودمختاری اور اس حساس علاقے کی سکیورٹی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس سے مقامی آبادی کی اپنے دیہات اور قصبوں میں محفوظ واپسی کی راہ ہموار ہو گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان اندرونی سیاسی بحران سے دوچار ہے، جس کی وجہ ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کا کردار ہے جو ریاستی دائرے سے باہر عسکری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ لبنان، اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں، اس بات پر مصر ہے کہ اسلحہ صرف ریاست کے پاس رہے تاکہ ملک کو افراتفری سے بچایا جا سکے۔
