عالمی ادارہ صحت نے ایبولا کی بونڈیبوغیو قسم کے علاج کی آزمائش شروع کردی
عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی بونڈیبوغیو قسم کے علاج کی پہلی کلینیکل آزمائش کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد مؤثر علاج کی تلاش ہے۔
اہم نکات
AIعالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی بونڈیبوغیو قسم کے علاج کے لیے پہلی کلینیکل آزمائش شروع کردی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس قسم کے لیے مؤثر علاج کے طریقے تیار کرنا ہے، جس کے لیے اب تک کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔
ادارے نے بتایا کہ اس نے بین الاقوامی کلینیکل ٹرائل "PARTNERS" میں پہلے مریض کو شامل کرلیا ہے۔ اس تجربے میں اینٹی باڈی "MBP134" اور اینٹی وائرل دوا "ریمدیسویئر" کی افادیت جانچی جائے گی، چاہے انہیں الگ الگ استعمال کیا جائے یا ایک ساتھ۔ یہ تحقیق جمہوریہ کانگو کے قومی ادارہ برائے طبی تحقیق، برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی، بیلجیئم کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میڈیسن اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے کی جارہی ہے۔
یہ آزمائشیں اس وقت ہورہی ہیں جب بونڈیبوغیو قسم کے کیسز مسلسل سامنے آرہے ہیں، جن کی وجہ سے اب تک جمہوریہ کانگو میں 1400 سے زائد افراد متاثر اور تقریباً 440 اموات ہوچکی ہیں، جبکہ اس کے خلاف کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا کہ ان تجربات کا آغاز ایبولا کے مؤثر علاج کی تیاری کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو جانیں بچانے اور مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے کی تیاری میں مددگار ہوگا۔
توقع ہے کہ ان آزمائشوں میں سیکڑوں مریض شامل ہوں گے اور حتمی نتائج سامنے آنے سے قبل یہ کئی ماہ تک جاری رہیں گی، جن میں علاج کی افادیت اور حفاظت کا جائزہ لیا جائے گا۔
