حوثیوں کا تجارتی جہاز پر حملہ یمنی عوام کی مشکلات بڑھانے کی کوشش ہے: معمر الاریانی
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کا تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا عوام کی مشکلات بڑھانے اور انسانی بحران کو طول دینے کی سازش ہے۔
اہم نکات
AIیمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا، جو براہ راست یمنی بندرگاہوں کی جانب جا رہا تھا اور یمنی عوام کے لیے سامان لے کر آ رہا تھا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ملیشیا اب صرف یمنیوں کے وسائل لوٹنے، ان کی تنخواہیں روکنے اور روزگار کے ذرائع تباہ کرنے پر اکتفا نہیں کر رہی، بلکہ سمندر کے راستے آنے والی خوراک کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی ملیشیا شہریوں کی مشکلات میں اضافہ اور انسانی بحران کو طول دینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
الاریانی نے اپنے ایک بیان میں، جو انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری کیا، وضاحت کی کہ نشانہ بنائی گئی جہاز پر کوئی اسلحہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی اور ملک جا رہا تھا، بلکہ اس پر صرف یمنی عوام کے لیے تجارتی سامان لدا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل محاصرہ حوثی ملیشیا ہی نے یمنی عوام پر مسلط کر رکھا ہے، چاہے وہ ملیشیا کے زیر قبضہ علاقے ہوں یا دیگر صوبے۔ یہ ملیشیا بنیادی ضروریات کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال کر، غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھا کر اور بھوک و غربت میں اضافہ کر کے عوام کی مشکلات بڑھا رہی ہے۔
یمنی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ یہ رویہ حوثی ملیشیا کے لیے نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے صنعاء ایئرپورٹ پر شہری طیارے تباہ کیے اور یمنیوں کو سفر اور نقل و حرکت کے حق سے محروم کیا۔ اسی طرح انہوں نے المکلا میں تیل برآمد کرنے والی تنصیبات اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا، تاکہ ریاست کے اہم ترین وسائل کو روکا جا سکے اور حکومت کو ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے محروم کیا جا سکے، حالانکہ حکومت نے ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں کئی شعبوں کے ملازمین کو تنخواہیں دینا شروع کر دی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیل برآمد کرنے والی تنصیبات پر حملے صرف حکومت کے خلاف نہیں تھے بلکہ براہ راست ملازمین کی تنخواہوں اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے ایک ایسا دروازہ بند ہوا جو مختلف صوبوں، حتیٰ کہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بھی شہریوں کی مشکلات کم کرنے میں مدد دے سکتا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملیشیا جان بوجھ کر یمنیوں کو تنخواہوں، خدمات اور آمدنی کے ذرائع سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔
الاریانی نے زور دیا کہ حوثی ملیشیا کے اقدامات کا یمن کے دفاع یا عوام کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ یمنیوں کے خلاف کھلی جنگ ہے جس میں بھوک، غربت، تنہائی اور خوف کو ہتھیار بنا کر معاشرے کو زیر کرنے اور شہریوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ انہیں باآسانی بلیک میل اور خاموش کیا جا سکے۔
یمنی وزیر اطلاعات نے عوام، خصوصاً ان علاقوں کے شہریوں سے جو حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ ہیں، اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے اصل عزائم کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ جو تنخواہیں ضبط کرے، املاک لوٹے، طیارے تباہ کرے، تیل کی برآمدات روکے اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالے، وہ یمن اور اس کے عوام کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا بلکہ وہی ان کی مشکلات، بھوک، تنہائی اور بدحالی کا اصل سبب ہے۔
اعرض التغريدة على منصة X
