کیوبا میں ایک ماہ میں چوتھی بار بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن
کیوبا کی بجلی کمپنی نے پورے جزیرے میں بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کا اعلان کیا ہے، جو ایک ماہ میں چوتھا بڑا بریک ڈاؤن ہے۔
اہم نکات
AIکیوبا کی بجلی کمپنی نے آج اعلان کیا ہے کہ قومی بجلی کا نظام مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے اور تقریباً ایک کروڑ آبادی والے جزیرے کے تمام علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔ یہ ایک ماہ کے دوران اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔
کیوبا کی الیکٹرک یونین کمپنی نے اس تازہ ترین بریک ڈاؤن کی وجوہات کے بارے میں کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور صرف اتنا بتایا کہ خرابی پیش آئی ہے، تاہم اس کی نوعیت یا مرمت میں درکار وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
یہ واقعہ جولائی میں پیش آنے والے تین بڑے بریک ڈاؤنز کے بعد پیش آیا ہے، جن میں آخری 14 جولائی کو ہوا تھا۔ اس سے ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔
کیوبا کے توانائی شعبے میں ساختی بحران
کیوبا کی وزارت توانائی نے سوشل میڈیا پر ایک سابقہ پوسٹ میں "نظام بجلی کا مکمل انقطاع" ہونے کی تصدیق کی تھی، جو اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جس کا قومی نیٹ ورک سامنا کر رہا ہے۔
کیوبا کو توانائی کے شعبے میں شدید ساختی بحران کا سامنا ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تیل کی پابندیوں نے جزیرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے، جو پہلے ہی کئی برسوں سے فرسودگی اور دیکھ بھال کی کمی کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف اقدامات کے بعد کیوبا پر تیل کی پابندیاں عائد کی تھیں۔ وینزویلا کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے والا بنیادی ملک تھا۔ امریکی دباؤ کے باعث میکسیکو نے بھی جزیرے کو تیل کی ترسیل روک دی، جس سے بحران مزید شدت اختیار کر گیا اور عوام کو اپنی بنیادی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
