روسیا کا بحیرہ اسود میں یوکرینی افواج کو سامان لے جانے والی 4 بحری جہازوں پر حملے کا دعویٰ
روسیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ اسود میں یوکرینی افواج کو سامان پہنچانے والی چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ یوکرینی ڈرون حملے میں ماسکو ریجن میں جانی نقصان ہوا۔
اہم نکات
AIروسیا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بحیرہ اسود میں چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرینی افواج کے لیے امدادی سامان لے جا رہے تھے۔ دوسری جانب، یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ماسکو کے علاقے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
ماسکو ریجن کے گورنر آندرے فوروبيوف کے مطابق، یوکرینی ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔
فوروبيوف نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں بتایا کہ ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی جسے فائر بریگیڈ نے بجھایا، جبکہ ایک نجی گھر اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، روسیا نے گزشتہ روز کہا کہ بحیرہ اسود کے کنارے واقع جیلنڈژیک ریزورٹ میں یوکرینی ڈرون حملے میں سات افراد، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں، ہلاک اور تقریباً چالیس زخمی ہوئے۔ روسیا نے اس حملے کو شہریوں پر دانستہ حملہ قرار دیا۔
رائٹرز کے مطابق، منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں ایک یوکرینی ڈرون کو جیلنڈژیک کے قریب ایک مصروف ساحلی علاقے سے ٹکراتے اور زور دار دھماکہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی حوالے سے روسی خبر رساں ایجنسی 'ریا' نے وزارت دفاع کے حوالے سے پیر کو بتایا کہ روسی افواج نے یوکرین کے میکولائیف بندرگاہ میں دو اور بحیرہ اسود میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ یوکرینی فوج کے لیے سامان لے جا رہے تھے۔ رائٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
رائٹرز کے مطابق، یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے اندر طویل فاصلے تک حملے تیز کیے ہیں، جن کا ہدف زیادہ تر آئل ریفائنریاں اور ای کامرس کے گودام ہیں۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں روسی عوام کو جنگ کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
