مواد پر جائیں
بدھ، 5 اگست، 2026 · ریاض
العربيةEnglishنیوز لیٹررابطہ
دنیا

امریکی وزیر دفاع نے طویل فاصلے کے میزائلوں کی کمی کی خبروں کی تردید کردی

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیث نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے طویل فاصلے کے جدید میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوگیا ہے۔

عاجل اردو1 گھنٹے پہلے · 2 منٹ مطالعہ
امریکی فوجی میزائل نظام کی فائل تصویر

اہم نکات

AI

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیث نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوگیا ہے۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی ہے جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ان میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال ہوچکا ہے۔

تین باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکی فوج نے پانچ ماہ قبل ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کا زیادہ تر ذخیرہ استعمال کرلیا ہے، جس کے بعد امریکی افواج کی آئندہ کسی ممکنہ جنگ کے لیے تیاری پر خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں فوجی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم 'اٹاکمز' اور 'پریزم' میزائل شامل ہیں، جو دونوں زمین سے زمین تک مار کرنے والے طویل فاصلے کے میزائل ہیں۔ دو ذرائع نے بتایا کہ امریکہ نے ان کارروائیوں کے دوران "تقریباً تمام" یہ گولہ بارود استعمال کرلیا۔

ذرائع نے دونوں اقسام کے میزائلوں کے باقی ذخیرے کی مقدار ظاہر نہیں کی، اور نہ ہی ان میزائلوں کے اصل استعمال کی تفصیلات پہلے کبھی جاری کی گئی ہیں۔

'اٹاکمز' اور 'پریزم' میزائل امریکی فوج کے سب سے جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی قیمت ایک ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ میزائل دور تک حملے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں اور فوجیوں کے لیے خطرات کم کرتے ہیں۔ اٹاکمز میزائل نے یوکرین جنگ میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پریزم جدید ترین میزائل ہے جسے اس کی جگہ مزید بہتر رینج اور صلاحیتوں کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔

تبصرے (0)