امریکا میں 2035 تک 1 کروڑ 10 لاکھ ملازمین کی نوکریاں خطرے میں
امریکا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے آئندہ برسوں میں 1 کروڑ 10 لاکھ افراد کو نئی ملازمتوں کی تلاش کرنا پڑ سکتی ہے۔
اہم نکات
AIامریکا میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال سے آئندہ برسوں میں روزگار کی منڈی میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں، اور اندازہ ہے کہ 2035 تک تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ ملازمین کو مختلف شعبوں میں منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق یہ تعداد امریکا کی موجودہ افرادی قوت کا تقریباً 6.5 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بعض افراد کو مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال کے باعث بالکل مختلف شعبوں میں جانا پڑے گا۔
دوسری جانب، سی این این کے مطابق میکینزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت آئندہ نو برسوں میں ختم ہونے والی نوکریوں سے زیادہ نئی ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی، اطلاق اور انتظام سے متعلق نئے شعبے سامنے آئیں گے۔
عالمی سطح پر بھی ادارے کا اندازہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے جڑے شعبوں میں 2035 تک تقریباً 4 کروڑ نئی ملازمتوں کی طلب پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ اندازے روزگار کی نوعیت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت نہ صرف بعض ملازمتیں ختم کرے گی بلکہ مطلوبہ مہارتوں میں بھی تبدیلی آئے گی اور نئی نوکریاں پیدا ہوں گی، جس کے باعث ملازمین کے لیے دوبارہ تربیت اور نئی مہارتوں کا حصول مستقبل کے لیے ناگزیر ہو جائے گا۔
