دیر الزور میں داعش کی خفیہ کارروائی ناکام، سرغنہ گرفتار
شامی سکیورٹی فورسز نے دیر الزور میں داعش کی ایک سرگرم دہشت گردانہ سیل کو توڑ کر اس کے سرغنہ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
اہم نکات
AIشام کی داخلی سکیورٹی فورسز نے جنرل انٹیلی جنس کے تعاون سے دیر الزور صوبے میں داعش سے وابستہ ایک سرگرم دہشت گرد سیل کو توڑنے اور اس کے سرغنہ سمیت کئی ارکان کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
سکیورٹی فورسز کے بیان کے مطابق، کارروائی کرنے والی ٹیم نے ان مقامات پر چھاپہ مارا جہاں سیل کے ارکان چھپے ہوئے تھے۔ اس دوران دہشت گردوں نے مزاحمت کی اور ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔ سیل کا سرغنہ عبد الفتاح دستی بم پھینکنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ کارروائی کے دوران علاقے میں قتل و غارت کے ذمہ دار عطا اللہ کو بھی ہلاک کر دیا گیا، جو خودکش جیکٹ سے خود کو اڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ حیدر جدعان الجاسم کو بھی گرفتار کیا گیا۔
آپریشن کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور خودکش جیکٹس بھی برآمد کیں۔
بیان کے مطابق، کارروائی کے دوران ایک بچہ زخمی ہوا جو گھر کے اندر موجود تھا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اعرض التغريدة على منصة X
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس سیل پر الباغوز اور الشعفہ کے علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کا الزام ہے، جن میں عید الاضحی کے روز ایک سفارتی سکیورٹی اہلکار کا قتل، ایک تجارتی مرکز میں بم نصب کر کے ایک سکیورٹی اہلکار کی شہادت اور داخلی سکیورٹی کی ایک گاڑی کو بم سے نشانہ بنانا شامل ہے۔
داخلی سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے، جس کے بعد انہیں متعلقہ عدالت کے حوالے کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ہر اس شخص کی تلاش جاری ہے جو اس سیل کی معاونت یا اس کے ارکان کو پناہ دینے میں ملوث ہو۔
