جرمنی کے چانسلر: برلن واقعہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے
جرمن چانسلر فریڈرش میرٹس نے برلن میں 'کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے' کے موقع پر گاڑی سے ہجوم کو کچلنے کے واقعے کو معاشرے پر حملہ اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اہم نکات
AIجرمن چانسلر فریڈرش میرٹس نے برلن میں 'کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے' کی تقریب کے دوران ایک ڈرائیور کی جانب سے ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے کو "ہمارے معاشرے پر حملہ اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش" قرار دیا ہے۔
میرٹس نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا، "برلن میں کتنا ہولناک واقعہ پیش آیا! دنیا بھر سے آئے لاکھوں افراد پرامن طور پر کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے منا رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور رواداری سے پیش آئیں... یہ ہمارے معاشرے پر حملہ ہے۔"
ایکس پر اصل پوسٹ دیکھیں
جرمن حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ چانسلر میرٹس کو واقعے کے فوراً بعد آگاہ کر دیا گیا تھا، اور وہ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر دوبرینٹ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور سکیورٹی اداروں سے تازہ ترین معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
جرمن وزیر داخلہ نے کہا: "یہ بزدلانہ اور سفاکانہ حملہ، جو پرامن طور پر جشن منانے والوں پر ہوا، نے مجھے شدید متاثر کیا ہے۔ میری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور اس جرم کے گواہوں کے ساتھ ہیں۔"
واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں برلن پولیس نے ایک مشتبہ شخص کی تصویر جاری کی ہے اور عوام سے اس کی شناخت اور تلاش میں مدد کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، جب کہ ایک گاڑی نے ہفتے کے روز برلن میں 'کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے' کی تقریب کے دوران ہم جنس پرستوں کی ریلی کے شرکاء کو کچل دیا۔
