یمنی وزارت پانی و ماحولیات کی بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے ماحولیاتی خطرات پر وارننگ
یمنی وزارت پانی و ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے حملوں سے سمندری حیات اور ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اہم نکات
AIیمنی وزارت پانی و ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کے نتیجے میں سمندری حیات کو شدید ماحولیاتی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
وزیر پانی و ماحولیات انجینئر توفیق الشرجبی نے یمنی خبر رساں ایجنسی (سبا) سے گفتگو میں کہا کہ بحری حملوں میں اضافے سے نہ صرف جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے اور نقل و حمل، انشورنس اور اشیائے صرف و توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان میں مضر مواد اور آلودگی کے سمندر میں پھیلنے کا امکان شامل ہے، جو خطے کی ماہی گیری اور حیاتیاتی تنوع پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یمنی وزیر نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر کی سمندری ماحولیات دنیا کی سب سے حساس سمندری ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتی ہے، جو کسی بھی آلودگی یا خلل سے فوری متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی بحری حادثے یا جہازوں کو نشانہ بنانے سے مرجان کی چٹانیں، سمندری جاندار، ماہی گیروں اور ساحلی آبادیوں کے ذرائع معاش کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جب کہ اس کے اثرات ملکی معیشت اور غذائی تحفظ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
وزیر پانی و ماحولیات نے اس بات پر زور دیا کہ بحری راستوں اور سمندری ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری مشترکہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کے تمام حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بحیرہ احمر کو آلودگی اور ممکنہ ماحولیاتی آفات سے بچانے کے لیے کردار ادا کرے۔
ایکس پر اصل پوسٹ دیکھیں
